ابنا: ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے امریکہ کے دہرے رویۓ پر تنقید کی ہے۔فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق علی اصغر سلطانیہ نے جنیوا میں این پی ٹی نظر ثانی اجلاس کے دوران دسمبر کے مہینے میں ستائيسویں ایٹمی تجربے کی بناء پر امریکہ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ تجربہ عالمی معاہدوں کے منافی ہے۔علی اصغرسلطانیہ نے مزید کہا کہ امریکہ ، فرانس ، برطانیہ اور کینیڈا دوسرے ممالک کے ساتھ اپنا ایٹمی تعاون بڑھانا چاہتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے جاری کردہ اعلامیوں میں اس بات کا دعوی کرتے ہیں کہ ایران این پی ٹی معاہدے پرعمل نہیں کر رہا ہے حالانکہ ان کو این پی ٹی معاہدے کا رکن ہونے اور ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ مسلسل تعاون کرنے کے باعث اسلامی جمہوریہ ایران کی قدردانی کرنی چاہۓ نہ کہ اسے اپنی تنقید کا نشانہ بنانا چاہۓ۔علی اصغرسلطانیہ نے مزید کہا کہ نئے نئے ایٹمی ہتھیار بنانا انسان کی بقا کے لۓ بہت بڑا خطرہ ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
25 اپریل 2013 - 19:30
News ID: 413222
ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے امریکہ کے دہرے رویۓ پر تنقید کی ہے۔